Monday, March 25, 2019

"مصادر الأدب العربی" کا تجزیاتی مطالعہ

استاد محترم جناب واضح رشید ندوی کی کتاب "مصادر الأدب العربی" کا تجزیاتی مطالعہ ناچیز کے قلم سے.




Sunday, March 10, 2019

بابری مسجد کے مسئلے کو حل کرنے کا درمیانی راستہ

ڈاکٹر محسن عتیق خان




آزاد ہندوستان کی تاریخ میں سب سے طویل مدت تک چلنے والابابری مسجد تنازعہ کا مقدمہ آج بھی اپنے انجام کو پہونچتا نظر نہیں آتا اور آخر کار ملک کی عدالت عظمی نے بھی اسے گفت وشنید اور مصالحت سے سلجھانے کے لئے کہ دیاہے۔ بابری مسجد تنازعہ ایک لمبا سفر طئے کر چکا ہے اور اس نے ہندوستان کی تاریخ پر گہرے اور داغدار نقوش چھوڑے ہیں۔ بہت سے فسادات برپا ہوئے ہیں اور جان و مال کااتنا نقصان ہوا ہے جسکا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ اس مسئلے نے کسی پارٹی کو اوج ثریا پر پہونچا دیا اور حکومت کی پوری باغ ڈور اسکے ہاتھ میں دے دی تو کسی کوزمیں بوس کر دیا۔ سچ کچھ بھی ہو اور ثبوت کسی کے پاس بھی ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارے برادران وطن کو یہ باور کرا یا جا چکا ہے اور ہر و خاص وعام یہ سمجھتا ہے کہ رام کا جنم بابری مسجد کی جگہ پر ہی ہوا تھا۔



 اس مسئلے کی سنگینی کی وجہ سے آج پوری دنیا کی نگاہیں اس پر لگی ہوئی ہیں اور ہر ایک کو یہ احساس ہے کہ کسی بھی طرح کا غیر متوازن فیصلہ دنیا کی نظروں میں ہندوستان کی جمہوری امیج کوٹھیس پہونچا سکتا ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کی سپریم کورٹ نے اسے پھر سے بات چیت اور مصالحت کے ذریعہ سلجھانے کے لئے کہا ہے۔ ایسی صورت میں سوال اٹھتا ہے کہ مسلمانوں کا رویہ کیا ہونا چاہئے؟ کیا انھیں سرے سے اپنے حق سے دست بردار ہو جانا چاہیے یا اسے اپنی ناک کا مسئلہ مان کر اپنے حق کے لئے اڑے رہنا چاہیے کہ سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ ہی قابل قبول ہوگا؟

ہمارے بعض علماء و دانشوروں نے اس سے پہلے بھی گفت و شنید سے اس مسئلے کو حل کرنے کی باتیں کہی ہیں اور اس مسئلے کے تصفیہ کے لئے الگ الگ فارمولے پیش کئے ہیں، مثال کے طور پر طبقہء علماء میں اپنی مخالف آراء کی وجہ سے مغبوض مولانا وحیدالدین خان نے بابری مسجد کی شہادت کے بعد ایک تین نکاتی فارمولہ پیش کیا تھا جسکا مقصد تھا کہ موجودہ بند گلی سے نکلنے کی طرف ایک واضح اور متعین آغاز کرنا تاکہ دوبارہ تعمیر و ترقی کی طرف ہم اپنا سفر جاری کر سکیں۔ اس فارمولے کا لب لباب یہ تھا کہ  ۱) مسلمان بابری مسجد کے بارے میں اپنا ایجیٹیشن مکمل طور پر ختم کریں۔  ۲) ہندو اپنے مندر مسجد کے آندولن کو آجودھیا میں ہی ہمیشہ کے لئے اسٹاپ کریں۔ ۳) گورمنٹ عبادت گاہوں کے تحفظ ایکٹ ۱۹۹۱ کو دستور ہند کا جزء بنا دے۔ مولانا کا یہ تین نکاتی فارمولہ اعتراف حقیقت کے اصول پر بنایا گیا تھا۔ اسی طرح مولانا سلمان حسینی ندوی نے ایک سال قبل اپنی ذاتی رائے پیش کر تے ہوئے بابری مسجد سے دست بردار ہونے اور اسکے بدلے ایک دوسری جگہ پر مسجد و یونیورسٹی بنانے کی بات کہی تھی۔ اسی طرح بعض دیگر دانشوروں نے بھی اپنے رایئں پیش کی ہیں۔
ناچیز کی رائے میں نہ تو مسلمانوں کو سرے سے اپنے حق سے دست بردار ہو جانا چاہیے اور نہ ہی اسے اپنی ناک کا مسئلہ مان کر اپنے حق کے لئے اڑے رہنا چاہیے کہ سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ ہی قابل قبول ہوگا کونکہ سب کو پتا ہے کہ ثبوت کس کے حق میں ہیں اور عدالت عظمی پر کس قسم کا فیصلہ دینے کا دبائو ہے بلکہ ایک درمیانی رہ اختیار کرنی چاہئے۔ اور ہمارے علماء و قائدین کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہئے اور اپنی دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے مشروط طریقے سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جس سے نہ کہ صرف برادران وطن کی دلجوئی ہو بلکہ جو ہندوستان میں مسلمانوں کے روشن مستقبل کا ضامن ہو۔ راقم الحروف کی رائے میں بعض شرطیں یہ ہو سکتی ہیں۔
۱) پہلی شرط یہ کہ تمام ہندو تنظیمیں مسلمانوں کی دیگر عبادت گاہوں بشمول مساجد، مدارس، خانقاہیں، مزارات، مقبرے، قبرستان وغیرہ کے تعلق سے اپنے دعووں سے دست بردار ہو جائیں اور پھر کبھی کسی پر کسی طرح کا دعوہ پیش نہ کریں۔
۲) بابری مسجد کے ڈھانے والے ملزموں کو سزا د ی جائے تاکہ پھر اس طرح کا کوئی واقعہ وقوع پذیر نہ ہو۔
۳) بابری مسجد کے بعد ہونے والے فسادات بالخصوص ممبئی فسادات کے ملزمین پر از سر نو ے مقدمہ چلایا جائے اور انہیں سزا دی جائے۔
۴) ایک ایسا دستوری قانون بنایا جائے جو مسلمانوں کی تمام تاریخی جگہوں کی حفاظت کا ضامن ہو اور اس بات کی ذمہ داری لے کہ بابری مسجد جیسا کا کوئی حادثہ مستقبل میں نہ ہو۔
۵)ایودھیا میں ہی کسی دوسرے مقام پر کوئی زمین الاٹ کی جائے تاکہ وہاں پر اسی نام سے مسجد کی تعمیر کی جا سکے۔
بہر حال ہمارے اکابر علماء، دانشور حضرات اور قائدین اپنی سوجھ بوجھ اور دور اندیشی کو برووئے کار لاتے ہوئے ایسی شرطوں کا انتخاب کر سکتے ہیں جو ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق کی نگہبانی کریں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مسئلہ بہت پیچیدہ ہے مگر وطن عزیز میں مسلمانوں کی حالت زار اس مسئلے کو مزید طول دینے کی اجازت نہیں دیتی خاص طور سے اس صورت میں جبکہ برادران وطن کا انتہاپسند طبقہ مسلمانوں کے در پئے آزار ہے اور صرف اسی بنا پراپنی سیاست کی روٹیاں سینک رہا ہے، اور وہ نہیں چاہتا کہ اس مسئلے کا کوئی حل نکلے اور سپریم کورٹ کی پیش رفت کے بعد ان کے دھمکی بھرے بیانات اس طرف واضح اشارہ کر رہے ہیں۔
 یہ خوشی کی بات ہے کہ ہر طبقے نے سپریم کورٹ کی اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔ مسلم علماء و دانشوروں، اور سیاستدانوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور ایسی درمیانی راہ اختیار کرنی چاہئے جو ہندوستان میں مسلمانوں کو روشن مستقبل کی طرت رہنمائی کرے، اور ایسا قدم اٹھانا چاہئے جس سے مستقبل میں اس طرح کی کوئی دوسری مشکل پیش نہ آئے۔ اس مسئلے کو انا یا قومی شان کا مسئلہ بنانے کے بجائے سوجھ بوجھ سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور سپریم کورٹ کی اس پیش رفت کو ایک خو ش آئند اور مخلصانہ قدم سمجھتے ہوئے اس پر غور کرنا چاہئے کہ بحیثیت قوم اس مسئلے کو کورٹ کی نگرانی میں اور کورٹ کے باہر سلجھا کر کون سے فائدے اٹھا ئے جاسکتے ہیں اور اپنی اگلی نسل کو اس فساد سے کیسے باہر نکالا جا سکتا تاکہ وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔


مزید پڑھیں ⇦ http://mazameen.com/?p=51783

Saturday, May 5, 2018

فرحانہ میم: کچھ یادیں کچھ باتیں



ہندوستان میں عربی زبان و ادب کے اساتذہ کی فہرست میں شاذ و نادر ہی کسی خاتون کا نام نظر آتا ہے اور ایسا ہی  ایک  نادر نام پروفیسر فرحانہ صدیقی میم کا تھا۔آپ جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی ، میں شعبئہ عربی کی صدر تھیں اور مختلف مضامین اور کتابوں کی خالق۔ عربی زبان و ادب کا طالب علم ہونے کی وجہ سے میں نے آپ کا اور آپ کی کتاب نازک الملائکہ کا نام پہلے سے سن رکھا تھا مگر آپ کو قریب سے جاننے اور سننے کا موقع اس وقت ملا جب۲۰۱۰ میں مجھے جامعہ میں پی ایچ ڈی میں دا خلہ ملا۔

آپ شعبئہ عربی کی صدر تھیں اس لئے شروع ہی میں ایک دو موقعوں پر دستخط کے لئے آپ سے ملنا ہواـ،آپ خندہ پیشانی سے ملیں اور بڑے اخلاق سے پیش آئیں۔ ایک دن میرے ایک عزیز جامعہ میں داخلے کے سلسلے میں آئے، وہ شاید داخلہ لینے کی آخری تاریخ تھی اور ان کے ڈکیومینٹس اٹیسٹیڈ نہیں تھے، اور سوء اتفاق ، انصاری آڈیٹوریم میں جو صاحب اٹیسٹ کرتے تھے وہ بھی اس دن نہیں آئے تھے۔میں ان کو لیکر اپنے شعبے میں آیا تو دیکھا کہ لنچ ٹائم ہونے کی وجہ سے اکثر اساتذہ کے کمرے بند ہیں، میں جب میم کے کمرے کے دروازے پر پہونچا تو دیکھا کہ آپ کہیں جانے کے لئے اپنی سیٹ سے اٹھ رہی ہیں، میں نے اپنا تعارف دینے کے بعد آپ سے اٹیسٹ کرنے کی درخواست کی تو آپ اپنی کرسی پر واپس بیٹھ گئیں ، اور ڈاکیومینٹس پر دستخط کرنے لگیں ، میں نے جب اصل کاٖغذات آپ کی بڑھائے تو آپ نے کہا، میں آپ کو جانتی ہوں، آپ ہمارے اسٹوڈنٹ ہیں ،اور ہمیں آپ پر پورا اعتماد ہے۔حالانکہ اب تک میں میم سے دو چار بار سے زیادہ نہ ملا تھالیکن آپ کا یہ اعتماد میرے لئے مسرت کی بات تھی۔

آپ نہ بے جا اصول کے پابند تھیں اور نہ ہی طلبا کے لئے کسی قسم کی مشکلات کھڑی کرنا پسند کرتی تھیں البتہ صحیح اور غلط کا فرق ضرور ملحوظ رکھتی تھیں، آپ کے اخلاق سے میں کافی متاثر ہوا اور دھیرے دھیرے میں آپ سے مانوس ہوتا گیا اور یہ انس اس وقت اور بڑھ گیا جب ہمارے پہلے سیمیسٹر کے پی ایچ ڈی کورس ورک میںلائبریری سائنس کی تدریس کی ذمہ داری آپ کے حصہ میں آئی۔آپ نے لائبریری کے استعمال کے تعلق سے صرف ضروری ہدایات اورنوٹس مہیا کرانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ معمول سے آگے بڑھ کر ہمارے لئے ایک لائیبریرین کے ساتھ خاص طور سے سیشن کا انتظام کیا تاکہ لائبریری کے استعمال کی تکنیکی باریکیوں سے ہم واقف ہو سکیں ، آپ کا یہ قدل یقینا طلباء کے لئے آپ کے خلوص پر دلالت کرتا ہے۔

آپ کے خلوص کے تعلق سے ایک واقعہ اور عرض کرتا چلوں جو خود راقم کے ساتھ پیش آیا۔ آج کے دور میں طلباء کی کثرت کی وجہ سے اساتذہ عام طور سے خود اپنے زیر نگرانی کام کررہے ریسرچ اسکالرس کے موضوع نہیں یاد رکھ پاتے دوسرے اسکالرس کی بات ہی کیا، مگر صدر شعبہ ہونے کی وجہ سے فرحانہ میم سب کی خبر رکھنے کی کوشش کرتی تھیں، اور اگر کسی کے موضوع کے متعلق کچھ مواد آپ کو دستیاب ہوتا تو آپ مہیا کرا دیتیں اور اس کا ذاتی تجربہ راقم کو اس وقت ہوا جب ایک دن ایک کاغذ پر دستخط کرانے میم کے پاس گیا۔ جب میم دستخط کر چکیں تو مجھ سے پوچھا ــ کہ آپ غسان کنفانی پر کام کر رہے ہیں نا، جب میں نے ہاں میں سر ہلایا تو میم نے کہا مجھے ایک میگزین موصول ہوئی ہے جس میں غسان کنفانی کے اوپر ایک مضمون ہے، میں نے میگزین الگ نکال کر رکھی ہے ، دیکھ لیجئے شاید آپ کے کام کا ہو۔ جب میں میم کا شکریہ ادا کرکے وہ میگزین لیکر آپ کے چیمبر سے باہر جانے لگا تو آپ نے مسکراتے ہوئے کہا، ارے بھائے میگزین رکھ مت لینا اپنا کام کرکے واپس کر دینا اس لئے کہ مجھے بھی کام ہے۔میں نے پلٹ کر او کے میم کہا اور تشکر کے جذبات سے لبریز آپ کے چیمبر سے باہر آگیا۔

فرحانہ میل قصیرالقامت تھیں اور اسکا خود انکو اعتراف تھا، اور اس سلسلے میں ایک واقعہ کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ہمارے شعبے میں ہندوستان میں عربی زبان و ادب کے موضوع پر ایک سیمینار کا انعقاد ہونے جا رہا تھا جس میں ہندوستان کی مختلف یونیورسٹیز سے عربی اساتذہ کو مدعو کیا گیا تھا۔سیمینار کی تیاریاں زوروں پر تھیں اور ایک کارکن کی حیثیت میں بھی انتظام میں شریک تھا،سیمینار شروع ہونے سے ایک دن قبل میرے ایک عزیز دوست کو ایک ذمہ داری سونپی گئی اور وہ تھی اسٹیج کے پاس ایک الگ سے لکڑی کا ڈیسک منگواکر رکھنے کی، ابتداء میں سمجھ نہ سکا کہ آخر اسکی کیا ضرورت مگر شام کو جب فرحانہ میم سیمینارہال کے معاینہ کے لئے آئیں اور آپ کے اشارے پر وہ ڈیسک ڈائس کے پیحھے رکھی گئی تب اسکا اصل مقصد پتا چلا۔آپ ڈائس کے پیحھے گئیں اور اس ڈیسک پر چڑھ کر یہ چیک کیا کہ آیا آپ مائیک تک پہنچ پا رہی ہیں یا نہیں، جب آپ مطمئن ہو گئیں اور ڈیسک سے نیچے اتریں تو زیر لب مسکرا رہی تھیں اور انہیں دیکھ کر میری زبان سے بے ساختہ عربی کا یہ شعر نکل گیا۔

ان لم یطل جسمی طویلا فاننی

لہ بالفعال الصالحات وصول

ترجمہ: میں بلند قامت نہیں ہوں تو کیا ہوا، میں اپنے کارناموں سے بلندی پر پہونچوں گا۔

میم نے یہ شعر سنا تو ہنس کر کہا، محسن جی اس طرح کے میں نے بہت سے شعر یاد کئے تھے ، کیا کروں چھوٹی ہوں نا۔ آپ کی یہ بات سن کر وہاں پر موجود دوسرے لوگ بھی ہنس پڑے۔ آپ ہنستی مسکراتی ایک زندہ دل شخصیت کی مالک تھیں اور خود اپنے اوپر ہنس کر بھی ہنساتی تھیں جو بہت کم لوگوں کو آتا ہے۔ میں نے میم کو عربی بولتے سب سے پہلے اسی سیمینار میں سنا تھا، آپ انتہائی شستہ اور سلیس زبان بول رہی تھیں، نہ کہیں تکلف تھا نہ کہیں بناوٹ بلکہ ایک روانی تھی جو آپ کے تجربے اور عربی زبان و ادب پر آپکے عبور اور عربی ثقافت سے آپکے گہری واقفیت پر دلالت کر رہی تھی۔ مجھے آپ سے استفادہ کا بہت زیادہ موقع نہ مل سکا اس لئے کی ایک سال کے اندر ہی آپ کا انتقال ہو گیا۔ آپ شعبئہ عربی صدر رہتے ہوئے ہی ۳۱ دیسمبر۲۰۱۱ کو اس دار فانی سے کوچ کر گئیں۔اللہ تعالی آپ کو غریق رحمت کرے۔

مزید ⇦ http://mazameen.com/?p=42117


Friday, May 4, 2018

A Sketch of My Granny


In the country side of UP, in a small village of Raebareli, there once lived an elegant elderly lady, my maternal Granny. A square tract of land bounded from all the sides by the sticks of bamboo (Tatia) was comprised of her mud house situated in a corner and her favorite time-pass garden and orchard in the remaining space in which she would grow fruits like, guava, Banana, Custard-apple and Dates. The bigun-belia, planted alongside the boundary line had grown well and at many places covered the wall of bamboo sticks, and when it would bear flowers, the scene was awesome and  treat for the eyes. The fragrance of the plant of Bella in the early hours of morning would fill the courtyard. There was a date tree just next to the small gate, which used to be laden with sweet dates in its season. In one corner there was a tree of black-berry which would give juicy black fruits in the hot summer and it was a great delight to enjoy them with a pinch of salt under the cool shade of that tree itself. And in the same way the trees of Guava and custard-apple which were about half a dozen in number would bear sweet fruits.

Of all these fruits the custard-apple had the best test for me, and it still reminds me of my grand mother when ever I see this. I remember well that when we would pay a visit to her place in the summer, we found that she had already plucked some raw custard-apple and put them in an earthen pot (Matki) to make them ripen sooner for us.

All these trees and plants owed to her efforts. As far as I could collect my reminiscent of her, she was in her sixties but still energetic, I had seen her taking care of the flower plants of, marigold and Bella in her compound, After finishing all the chores, she would take a round in her compound and water the plants, make a fencing of sticks or burnt bricks around the trees if required to save them from wandering goats and cows of the neighbors which would barge in the court-yard sometimes.

She was a pious and god-fearing, and a very generous and charitable kind of lady and was always ready to help others. She would feel pleased and happy after giving alms and I never saw her rebuking a beggar. Through my constant visits to her I came to recognize many faces of the beggars who would come to her door from time to time and not only took alms but also demand used-clothes to wear and she would bring some old and intact dresses of my uncles to give them eagerly.

My mother was the only daughter she had and she would give special care whenever we reached there. I still remember the delicious indigenous cuisines she used to cook for us and her happiness after seeing us. 

One morning, when I was in my school, one of my uncles came to take leave for me and I was shocked to hear that the soul of my Granny has left her mortal figure to the final abode, and streams of tears rolled down from my eyes onto my cheeks. At that very young age, I had never felt so sad and grief-stricken as that day and felt like I had lost some very precious thing of my life. May her soul rest in peace. 

Thursday, April 26, 2018

يوم في مدينة بونى

كنت مشغولا في مكتبي في نيودهلي، في ظهيرة اليوم الثامن من شهر ديسمبر عام 2010 وأعمل على الكمبيوتر، إذ رن هاتفي المحمول، فاستلمت المكالمة وكانت على طرف آخر امرأة عذبة الصوت، تتكلم من شركة وودافون من مدينة بونى، وما إن علمت بأن المكالمة تتعلق بالوظيفة خرجت من مكان العمل لكى أتكلم بطمأنينة. إنها قامت بتعريف شركتها أولا ثم أخبرتني عن وظيفة شاغرة و سئلتني عن رغتي في وظيفة أخرى و استعدادي للترحيل إلى مدينة بونى لو يتم اختياري للوظيفة. أجبت لها كل ما سألت ثم قالت “سأقوم بتحديد موعد المقابلة لك.” فسألت: في أي مكان؟ فقالت “في نيو دهلي، و سأرسل جميع التفاصيل إلى بريدك الإلكتروني،” و بعد كلمات الوداع انقطعت المكالمة، ثم اتصلت بي مرة أخرى بعد قليل وقالت “لا يمكن إجراء المقابلة في دهلي و عليك أن تجئ إلى بونى للمقابلة الشخصية” ثم طلبت مني أن اقوم بتحجيز مقعد لي في صباح اليوم التالي 9 ديسمبر، و أن اخبرها على الهاتف بعد الحجز، ولا أفكر في النقفة لأن الشركة سيقوم بتعويض ذلك. فقمت بتصفح الانترنت للبحث عن مقعد خال، ولكن التذاكر كانت غالية جدا فلم أجترأ ان اقوم بالحجز، وبعد نصف ساعة اتصلت بي وقالت لي إنها ستقوم بحجز التذاكر لي بنفسها ثم قطعت المكالمة. في الساعة السابعة اتصلت بي وأخبرتني بأنها قد قامت لي بحجز التذكرة و أرسلتها على بريدي الإلكتروني، كنت فرحا و مسرورا، فكانت هناك تذكرتين للذهاب في الصباح الباكر والإياب في المساء في نفس اليوم.

وهكذا حوار وظيفي في شركة فودافون وفر لي فرصة ذهبية لزيارة مدينة بونى إذ وفرت لي الشركة تذكرتى الذهاب والإياب بالطيران. والجدير بالذكر أن هذه المدينة كانت عاصة لحكماء الدولة المرهتية التي تشكلت عند انهيار الامبراطورية المغولية قضى عليها الملك الأفغاني أحمد شاه الأبدالي. وهي ثاني أكبر مدينة في ولاية مهاراشترا، و سابع أكبر مدينة في الهند، وهي تعتبر واحدة من مراكز خدمات تكنولوجيا المعلومات الرائدة في الهند، وهي موطن لأكبر حديقة لتكنولوجيا المعلومات في الهند المعروفة بـ”حديقة راجيف غاندي لتكنولوجيا المعلومات”، وكذلك حديقات أخرى للتكنولوجيا.

كان ذلك في اليوم التاسع من شهر ديسمبر عام 2010، خرجت في الصباح الباكر من البيت ووصلت المطار في الوقت المحدد إذ كانت تذكرة الذهاب في أول رحلة صباحية لشركة كنغ فيشر ايرلائن التي كانت أغلى شركة للطيران في الهند وعُرفت لاهتمامها الزائد بسبل راحة المسافرين، وبجمال المضيفات الجوية. كانت الرحلة مريحة وممتعة ووصلنا الوجهة النهائية في حوالى ساعة ونزلت من على متن الطائرة بسلام. كان على باب مطار بونى حشد كبير لأصحاب أوتو والتاكسي، وبدا من وجوههم ولغاتهم كأنهم مزيج من شمال الهند وجنوبها، فشعرت كأنني أطل من نافذة على جنوب الهند التي تختلف من شمال الهند في الثقافة واللغات، وملامح الوجوه، ولون الجلد. تحادثت أحد السائقين وغادرت إلى المنطقة الاقتصادية الخاصة بتكنولوجيا المعلومات والمقاولات المعروفة بـ”حديقة خرادي للمعرفة” (Kharadi Knowledge Park)، حيث تم الحوار مع المدير لحوالى نصف ساعة، ووقف الأمر على أن التحق بالشركة في أسرع وقت ممكن، ولكنني كنت قد قررت في نفسي أن لا ألتحق بهذه الشركة إذ كنت نلت القبول في الدكتوراه في الجامعة الملية الإسلامية بنيو دهلي ووددت أن أواصل الدراسة العليا. بعد ما خرجت من المبنى، اتصلت بصديقي الحميم أياز أحمد الذي كان يسكن في هذه المدينة في ذلك الحين بسبب وظيفته في شركة هناك، وعندما تأكدت من أنه لا يمكن لقاءه اليوم بسبب بعض أشغاله المهمة، اكتريت أوتو لطول اليوم وقلت لصاحبها أن يذهب بي إلى بعض الأمكنة السياحية الشهيرة في بونى.

زيارة قصر آغا خان (بيليس): فذهب بي إلى قصر آغا خان الذي كان على بعد حوالى ست كم. هذا قصر شامخ جميل وتحيط به حديقة مترامية الأطراف، وهذه الزيارة جاءت مثيرة إذ ساعدتني في فهم تجربة مهاتما غاندي وحياته، فقد كان هذا الرجل العظيم وُضع في هذا القصر تحت إقامة جبرية مع زوجته كاستوربا غاندي وسكرتيره ماهاديفاي ديساي عقب إطلاق حركة “أخرج من الهند” في عام 1942، فاقاموا في هذا القصر من 9 أغسطس 1942 إلى 6 مايو 1944، وخلال هذه المدة توفي ماهاديفباي وكاستوربا في هذا القصر ويقع مقبراهما في فناءه. وهكذا أصبح هذا القصر نصبا تذكاريا وطنيا لغاندي وحياته، وواحدا من أكبر المعالم لحركة استقلال الهند والتاريخ الهندي.

كذلك عرفتني هذه الزيارة إلي شخصية عظيمة أخرى، شخصية سلطان محمد آغا خان الثالث (1877-1957) الذي كان بنى هذا القصر الجميل في عام 1892، وذلك ليس ليعيش حياة مترفة فيها بل كعمل خيري لمساعدة الفقراء في المناطق المجاورة الذين كانوا ضربوا بشكل كبير من المجاعة. كان آغا خان الإمام الثامن والأربعين للفرقة الإسماعيلية النزارية ولكنه بسبب عبقريته وإخلاصه عُرف في جميع الشعوب الهندية وتم اختياره كأول ريئس للعصبة الإسلامية لعموم الهند التي تم تأسيسها في عام 1906 للدفاع عن حقوق المسلمين السياسية في الهند. إنه سافر في أنحاء الهند وتلقى اعترافات من الإمبراطور الألماني، الإمبراطور التركي، وملك فارس لخدماته العامة، وقد منحته الملكة فيكتوريا في عام 1897 تمييز قائد فارس الإمبراطورية الهندية. إنه كتب عديدا من الكتب من أهمها “India in transition” الذي يتناول سياسة الهند قبل ما قبل تقسيم الهند، وسيرته الذاتية بإسم “World Enough and Time”.

قضيت في هذا المبنى عدة ساعات خلالها زرت المتحف ومعرض الصور في داخل المبنى، وتنفست الهواء النقي في فناءه، وعندما غلب علي الجوع اتصلت بسائق أوتو وطلبت منه أن يذهب بي إلى مطعم أو مول حيث أشبع بطني الذي كان خاليا منذ الصباح.

زيارة فونكس ماركيت سيتي (Phoenix Market City): عندما نزلت من أوتو وجدت نفسي أمام مول كبير وبين حشد من الناس، وكما عرفت فيما بعد أنه أفضل وأشهر مول في مدينة بونى. وبعد ما شبعت تجولت فيه فوجدت فيه كل المحلات التجارية التي كان يمكن لي أن أتخيل بما فيها الهندية والدولية، وخيارات التسوق التي لا نهاية لها، والمطاعم المتنوعة، والحانات والبارات، وخيارات الترفيه لكل من الصغار والكبار، والأجواء الفائقة، و المراحيض النظيفة التي أقرب إلى مراحيض الفندق ذات النجوم في الجودة والطهارة، ومساحة وافرة لوقوف السيارات، هكذا لم أجد هناك ما يشكى، فكان رائعا حقا. لم أدرك كيف مضى الوقت بسرعة، وكنت أريد أن أزور الأمكنة الأخرى في هذه المدينة ولكن يكن لدى مزيدا من الوقت فاتصلت بالسائق وغادرت إلى المطار.

بعد ما تم انهاء إجراءات الوصول في المطار وجدت أن رحلة الطائرة قد تأخرت لساعة، ثم لساعة أخرى ثم لساعة ثالثة. كان هذا الجلوس في هذا المطار الصغير مملا ولكن تصادقت مع بعض المسافرين الذين كانوا ينتظرون لنفس الطائرة ثم خرجنا من المطار بعد ما تكلمنا مع حراس الباب أقنعناهم ثم شربنا الشائ في مطعم عام كان يديره رجل مسن له ذوق في الأدب الفن، وعندما اسلتمنا رسالة في هاتفنا عن وقت المغادرة للطائرة رجعنا من هناك. وهكذا هذا السفر رغم كونه ليوم واحد فقط، كان مليئا ببعض التجارب المهمة، وجاء ببعض الاكتشافات المثيرة للاهتمام.

رابط النشر: 
http://www.aqlamalhind.com/?p=999


Wednesday, March 7, 2018

الهنـد وإســرائيل وأمـــريكا: عــــــلاقات ثلاثيــة الأطــــراف


الهنـد وإســرائيل وأمـــريكا: عــــــلاقات ثلاثيــة الأطــــراف


بقلم: فارغيسي كيه. جورج

تعريب وتلخيص: د. محسن عتيق

كتب الصحفي فارغيسي كيه. جورج، المحرر السياسي لصحيفة دي هندو اليومية، مقالا بعنوان: It is a trilateral partnership of India, U.S. and Israel ، ويُنشر مفاد هذا المقال باللغة العربية .

سيتغير مسار العلاقات بين الولايات المتحدة الأمريكية وإسرائيل بعلاقات أفضل تحت إدارة الرئيس الأمريكي دونالد ترامب، وذلك سيؤثر على علاقات الهند مع كلا البلدين تأثيرا إيجابيا، صرح مسؤول رفيع المستوى في اللجنة اليهودية الأمريكية (AJC ) وهي مجموعة مناصرة ذات نفوذ بالغ.

قال مدير الشؤون الدولية في اللجنة اليهودية الأمريكية جيسون آيزاكسون الذي زار إسرائيل مؤخرا، إنه يتوقع بتبادل الزيارات بين رئيسي الوزراء الهندي والإسرائيلي في عام 2017م، واصفا في نفس الوقت، زيارة الرئيس الهندي براناب موخرجي إلى إسرائيل في العام الماضي بـ”الخروج من الخزانة” في سياق العلاقات مع إسرائيل، كما صرح المدير أن هناك أقل تردد في الهند في احتضان إسرائيل، مما قد بدأ قبل السيد نارندرا مودي، لأن ذلك موقف الحزبين المركزيين في الهند، ولكن هذا الاحتضان يمثل أكثر ظهورا تحت قيادة السيد مودي بأن إسرائيل هي الحليف الطبيعي للهند، وثمة منافع متبادلة .

ومتحدثاً مع صحيفة “دي هندو” الهندية في مقر اللجنة التي يتجاوز عمرها 110 عام في واشنطن، وصف السيد آيزاكسون الذي يؤيد ويناصر تعزيز التعاون بين الجاليات الهندية واليهودية عبر العالم، العلاقات بين الهند وإسرائيل والولايات المتحدة الأمريكية بأنها علاقات ثلاثية الأطراف.

مضيفا إننا سنعمل معاً على إبراز منافع العلاقات الثلاثية بين الهند وإسرائيل والولايات المتحدة الأمريكية. وفيما يخص قيام اللجنة اليهودية الأمريكية بالتنسيق مع الهنود الأمريكيين. أكد مدير الشؤون الدولية أن هذه اللجنة قد بذلت كل ما في وسعها في دعم الاتفاق النووي المدني بين الهند والولايات المتحدة الأمريكية .

على الصعيد السياسي:

قال السيد آيزاكسون الذي يزور الهند بانتظام، إنه “يمكن للهنود الأمريكيين واليهود الأمريكيين أن يحققوا أشياءا كثيرة معا. ورداً على سؤال حول طموح العديد من المبادرات الهندية والأمريكية والتي ترمي بنجاح محدود، إلى متابعة النموذج اليهودي للتدخل في السياسة الأمريكية، قال السيد آيزاكسون: “إن الطريقة التي يمكن أن تجعلك مؤثرا في هذا المجتمع، هي جمع الناس معاً، وإعداد جدول أعمال، وجمع الأموال، وتوظيف الموظفين. وإذا لديكم مجتمع له صوت سياسي، فلا بد من التعامل معه كعمل تجاري. وأمريكا ترحب بهذا النوع من النشاط السياسي، ولكن يجب أن تأخذ ذلك على محمل الجد.

ورداً على سؤال حول علاقات الهند مع إيران وكيفية تأثيرها على علاقاتها مع إسرائيل والولايات المتحدة الأمريكية، قال السيد آيزاكسون إن اللجنة اليهودية الأمريكية تتمنى لتتضاءل شراكة الطاقة بين الهند وإيران مع مرور الوقت.

وقال المدير إن الاجتماعات التي عقدتُها مع المسؤولين الهنود في كل من نيودلهي ونيويورك وواشنطن، تناولت قضية إيران، وأنا لن أخفي عليكم قلق اللجنة اليهودية الأمريكية ومجتمعنا تجاه إيران وطموحاتها. إذ نحن ندرك أيضا بأن إيران هي جيران وشريك تجاري هام ومورد مهم للطاقة بالنسبة للهند… فنأمل أنه بإمكان الهند أن تستخدم علاقاتها مع إيران في تأثير تعاملها مع إسرائيل ومع جيرانها في منطقة الخليج وفي دعمها للارهاب. ويجب أن يشعر الإيرانيون بعدم ارتياح من قبل شريكها التجاري الهند.”

وقال السيد آيزاكسون، في حين أعطت إدارة الرئيس ترامب القادمة إشارات واضحة بشأن سياسته تجاه إسرائيل، فأن هناك عدة مسائل أخرى ولا سيما الحرب الأهلية في سوريا، لا تزال متوفرة للنقاش .

رابط النشر: 







"مصادر الأدب العربی" کا تجزیاتی مطالعہ

استاد محترم جناب واضح رشید ندوی کی کتاب "مصادر الأدب العربی" کا تجزیاتی مطالعہ ناچیز کے قلم سے.